کلام محمود — Page 135
۱۳۵ Ar یہ خاکسار نابکار دلبراڈ ہی تو ہے کہ جس کو آپ کہتے تھے ہے بادفا وہی تو ہے جو پہلے دن سے کہہ چکا ہوں دعاؤ ہی تو ہے میری طلب کوہی تو ہے میری دُعا ہی تو ہے جو غیر بنگہ نہ ڈالے آشنا وہی تو ہے جو غیر کے سوا نہ دیکھے چشم وا ر ہی تو ہے نظر تھی جس پر رحم کی جو خوشہ چین فضل تھا دلی غلام جاں نثار آپ کا وہی تو ہے یہ بے رخی ہے کسی بہت سے میں رہی ہوں کہ تھا میرے گنہ وہی تو ہیں میری خطا وہی تو ہے سزائے عشق ہجر ہے جزائے مبر وصل ہے میری سزا د ہی تو ہے میری جزاء ہی تو ہے نہیں ہیں میرے قلب پہ کوئی نئی تجلیاں حرامیں تھا جو جلوہ گر میرا خدا وہی تو ہے نہیں ہے جس کے ہاتھ میں کوئی بھی تو ہی تو ہوں جو ہے قدیر خیر و شر میرا خدا وہی تو ہے بھنور میں پھنس رہی ہے گو نہیں ہے خوف ناؤ کو بچایا جس نے نوح کو تھا نا خُدا وہی تو ہے ہے جس کا پھول خوشنما ہے جس کی چال جانفزا میرا جین وہی تو ہے میری صبا د ہی تو ہے از احمد می جنتری ۱۹۲ مطبوعہ دسمبر ۹۲