کلام محمود — Page 134
۱۳۴ M ستی پٹیم میری ناکام ہوتی جاتی ہے صبح آتی ہی نہیں شام ہوئی جاتی ہے وہ سب شرع میں گویائی پر آمادہ پھر سخت ارزاں مئے گلفام ہوئی جاتی ہے تکلف خلوت جو اُٹھانا ہو اُٹھا لو یارو دعوت پیر مغاں عام ہوئی جاتی ہے مضطرب ہو کے چلے آتے ہیں میری جانب موت ہی وصل کا پیغام ہوئی جاتی ہے ان کو اظہار محبت سے ہے نفرت محمود آہ میری یونسی بدنام ہوئی جاتی ہے عشق ہے جلوہ فگن فطرت وحشی پہ میری دیکھ لینا کہ ابھی رام ہوتی جاتی ہے راتِ زُلف تو دیکھو کہ بروزِ روشن در پئے قتل سر بام ہوئی جاتی ہے خود سری تیری گر اسلام ہوئی جاتی ہے ان کی نجش بھی تو انعام ہوتی جاتی ہے لذت میں جہاں دیکھ کے بھولا مسلم دانہ سمجھا تھا جسے دام ہوئی جاتی ہے کیا سبب ہے کہ تجھے دے کے دل ایسے چشمہ فیض میری جاں معرض الزام ہوتی جاتی ہے پھر مئے جاتے ہیں ہر قسم کے دُنیا سے فساد عقل پھر تابع الام ہوئی جاتی ہے از احمدی جنتری اره مطبوعه دسمبر ۱۱۲