کلام محمود — Page 129
CA تودہ قادر ہے کہ تیرا کوئی ہمسر ہی نہیں میں کو بے بس ہوں کہ بے دربھی ہوں بے پر ہی نہیں لذت جہل سے محروم کیا علم نے آہ ! خواہش اُڑنے کی تو رکھتا ہوں گر پرہی نہیں گھونسلے چڑیوں کے ہیں مانیں ہیں شیروں کیلیئے پر میرے واسطے دنیا میں کوئی گھر ہی نہیں نوف اگر ہے تو یہ ہے تجھ کو نہ پاؤں ناراض جان جانے کا تو اے جانِ جہاں ڈر ہی نہیں عشق بھی کھیل ہے ان کا کہ جو دل رکھتے ہیں ہو جو سودا تو کہاں ہو کہ یہاں سر ہی نہیں آنکھیں پرنم میں گڑ گڑے ہے سینہ ہے پاک یاد میں تیری تڑ تا دا منظر ہی نہیں ذرہ ذرہ مجھے کالم کا یہ کہتا ہے کہ دیکھ میں بھی ہوں آئنہ اس کا مہ و اختر ہی نہیں دل کے بہہ جانے کی نالے بھی خبر دیتے ہیں شاہد اس بات پہ نوک مشرہ تر ہی نہیں خواہش و مل کروں بھی تو کروں کیو کریں کیا کہوں اُن سے کہ مجھ میں کوئی جو ہری نہیں دل سے ہے وسعت ترجیب مبنت منقود ساقی استادہ ہے مینا لیے ساغر ہی نہیں قرب دلدار کی راہیں تو کھلی ہیں لیکن کیا کروں میں جسے اسباب میتر ہی نہیں ہے ظلم نفس ادھر شکر ادھر عالم کا پین ممکن ہی نہیں، امن مقدر ہی نہیں اخبار الفضل جلد ۱۴ - ۳۱ را گست ۱۹۲۶