کلام محمود — Page 114
۶۵ ہے رضائے ذات باری اب منائے قادیاں مدعائے حق تعالے مدعائے قادیاں رہ ہے خوش اموال پر، یہ طالب دیدار ہے بادشاہوں سے بھی فضل ہے گدائے قادیاں گر نہیں عرش معلی سے یہ کراتی تو پھر سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں صدا قادیاں دعوی طاعت بھی ہوگا ادعائے پیار بھی تم نہ دیکھو گے کہیں لیکن وفائے قادیاں میرے پیارے دوستو تم دم نہینا جب تلک ساری دنیا میں نہ امرائے بوائے قادیاں بن کے سورج ہے چمکتا آسمان پر روز و شب کیا عجب معجز نما ہے رہنمائے قادیاں غیر کا افسون اس پر چل نہیں سکتا کبھی لے اڑی ہو جس کا دل زلف دوتائے قادیاں اسے بتو اب جستجو اس کی ہے امید محال لے چکا ہے دل میرا تو دلربائے قادیاں یا تو ہم پھرتے تھے اُن میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے ہو گے کو چہ ہائے قادیاں خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقام پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہ اٹھتا ہوں رائے قادیاں آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ با نیل مرام باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں پہلی اینٹوں پر ہی رکھتے ہیں نئی اینٹیں پیش ہے تبھی چرخ چہارم پر بنائے قادیاں صبر کراسے ناقہ راہ ھدی بہمت نہ ہار دُور کر دے گی اندھیروں کو نیائے قادیاں ایشیا د یورپ و امریکہ و افریقہ سب دیکھ ڈالے پر کہاں وہ رنگ ہائے قادیاں منہ سے جو کچھ چاہے بن جائے کوئی پرتی یہ ہے ہے بہار اللہ فقط حسن و بہائے قادیاں ختن احمد کے پھولوں کی اُڑا لائی جو بُو زخم تازہ کر گئی بادِ صبا ئے قادیاں جب کبھی تم کو بے موقع دُعائے خاص کا یاد کر لینا ہیں اصل وفائے قادیاں اخبار الفضل مجلد ۱۲-۲۵ جولائی ۱۳۳ + سے یہ نظم حضور نے ۱۹ ء میں سفر یورپ کے دوران فرمائی تھی۔