کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 302

کلام محمود — Page 103

مجھ سے ملنے میں انہیں عذر نہیں ہے کوئی دل پر قابو نہیں اپنا یہی دشواری ہے پیاس میری نہ بھی گر تو مجھے کیا اس سے چشمہ فیض و عنایات اگر جاری ہے پاک کر دیجئے، ہیں۔بیچ میں جتنے یہ حجاب میری منظور اگر آپ کو دلداری ہے مر کے بھی دیکھ لو ید کہ میستر ہو وصال لوگ کہتے ہیں یہ تدبیر بڑی کا ری ہے میری یہ آنکھیں کجا رویت دلدار کجا حالت خواب میں ہوں میں کہ یہ بیداری ہے دل کے زنگوں نے ہی مجوب کیا ہے اس سے شاہد اس بات پہ اک پردۂ زنگاری ہے دشمن دین کے حملے تو سب میں نے سے اب ذرا ہوش سے رہیو کہ میری باری ہے مخل اسلام پر رکھا ہے مخالف نے تبر داخیا شاہ کہ ساعت یہ بڑی بھاری ہے عشق کہتا ہے کہ محمود لسٹ جا اُٹھ کر رعب کہتا ہے پئے بہت بڑی چاری ہے اخبار الفضل جلد ۰۹ یکم اگست سله