کلام محمود — Page 102
۵۵ ساغر حسن تو پر ہے کوئی کے خوار بھی ہو ہے وہ بے پردہ کوئی طالب دیدار بھی ہو وصل کا لطف تبھی ہے کہ رہیں ہوش بجا دل بھی قبضہ میں ہے پہلو میں دلدار بھی ہو رسیم مخفی بھی رہے الفت ظاہر بھی رہے ایک ہی وقت میں انتخا بھی ہو اظہار بھی ہو عشق کی راہ میں دیکھے گا رہی روئے فلاح جو کہ دیوانہ بھی ہو عاقل د ہشیار بھی ہو اس کا ڈر چھوڑ کے کیوں جاؤں کہاں جاؤں میں اور دنیا میں کوئی اس کی سی سر کار بھی ہو ہمسری مجھ سے تجھے کس طرح حاصل ہوئدو حال پر تیر او ناداں نظیر یار بھی ہو بات کیسے ہو موثر جو نہ ہو دل میں سوز روشنی کیسے ہو دل مهبط انوار بھی ہو یونہی بے فائدہ سر مارتے ہیں دید و لیب اُن کے ہاتھوں سے جو اچھا ہو وہ آزار بھی ہو درد کا میرے تو اسے جان فقط تم ہو علاج چارہ کار بھی ہو محرم اسرار بھی ہو دل میں اک درد ہے پر کس سے کہوں میں جا کر کوئی دنیا میں میرا مونس و غمخوار بھی ہو سالک راہ بینی ایک ہے منہاج وصول عشق دلدار بھی ہو محبت ابرار بھی ہو ۱۹۲۱ اخبار الفضل - جلد - و ر جنوری ست