کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 96
ہیں۔اس آیت میں اِس اعتراض کا بھی کہتی ہو جاتا ہے جو وہ یوں کرتے ہیں کہ کلام اٹھی ایسی زبان میں آنا چاہیئے جیسے کوئی بولتا نہ ہو تا کہ سب میں برا ہوہی رہے مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسی زبان میں وحی ہونی چاہیئے جس کو لوگ بولتے ہوں تا کہ نبی ان کو سمجھا سکے او وہ سمجھ سکیں جس زبان کو دنیا نہ بول سکتی ہے نہ سمجھ سکتی ہے اس میں کلام الہی آنے کا فائدہ ہی کیا ہوا۔آریوں کا یہ عقیدہ اس طرح بھی غلط ہے کہ جب وید نازل ہوئے اگر اُسی وقت رشیوں نے اسے نہیں سمجھا تو اُن کا نزول بے فائدہ ہو جاتا ہے اور اگر ان کو دید سمجھا دیا گیا تو پھر برابری نہ رہی۔اور اگر اس وقت لوگ موجود تھے اور انہیں بھی سمجھا دیا گیا تھا تو گو اس وقت کے لوگوں کے لئے ہوا ہری ہوگئی مگر جو لوگ بعد میں پیدا ہوئے اُن کے لئے برابری کہاں رہی آب تو پنڈت تک دیدوں کی زبان سے ناواقف ہو رہے ہیں۔چونکہ اس زمانہ کے مامور (حضرت اقدس۔ناقل ) پر عربی کے بعد اُردو میں الہام زیادہ کثرت سے ہوا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کو بد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ زبان ہندوستان کی اُردو ہوگی اور دوسری کوئی زبان اسکے مقابل پر نہیں ٹھر سکے گی یائے له تفسیر کبیر جلد سوم ۴۳۲۵