کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 63
۶۳ آنکھیں بند کر کے شکوک سے بچنے کی کوشش کرتا ہے کبھی اسس ظاہری ہے ترقی کی تاویلیں کر کے اپنے دل کو سمجھا لیتا ہے ، کبھی سے عجیب عجیب نتائج نکالتا ہے اسہ ایک عام کتاب خواں کی سی ذہنیت لے کر جب ہم میں کا کوئی شخص قرآن کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو اسے کتاب کے موضوع اندھا اور مرکزی مضمون کا سراغ نہیں ملتا۔اس کا اندازہ بیان اور طرز تعبیر بھی اسے کچھ اجنبی سا محسوس ہوتا ہے اور اکثر مقامات پر اس کی عبارات کا پس منظر بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ متفرق آیات میں حکمت کے جو موتی بکھرے ہوئے ہیں ان سے کم و بیش مستفید ہونے کے با وجود آدمی کلام اللہ کی اصلی روح تک پہنچنے سے محروم رہ جاتا ہے اور علم کتاب حاصل کرنے کے بجائے اس کو کتاب کے محض چند منتشر نکات و فوائد پر قناعت کر لینی پڑتی ہے۔بلکہ اکثر لوگ جو قرآن کا مطالعہ کرکے شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کے بھٹکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فہیم کتاب کے ان ضروری مباری سے ناواقف رہتے ہوئے جب وہ قرآن کو پڑھتے ہیں تو اس کے صفحات پر مختلف مضامین انہیں بکھرے ہوئے نظر آتے تفہیم القرآن از سفید ابو الاعلیٰ مودودی جلد اول ما۔