کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 41
بندش کی شہستی محاورہ کا بر محل استعمال ، عبارت کا تسلسل مضمون کی رفعت ، معافی کی وسعت، ایک سے ایک بڑھ کر خوبیاں ہیں کہ انسان نہیں کہہ سکتا کہ اسے سرا ہے یا اُس کی تعریف کرے۔انہی عربی الفاظ سے وہ دیتا ہے جو ہزاروں لاکھوں اور کشہر میں استعمال ہوئے ہیں مگر کیا مجال کہ کوئی اور کتاب اسکے قریب تک پہنچ سکتی ہو۔عرب اپنے خیالات کی نزاکت اور اپنے ادب کی بلندی اور اپنے ذخیرہ الفاظ کی کثرت کی وجہ سے سب دنیا کے لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔اور عرب قوم ادب کی اس قدر دلدادہ ہے کہ زور اور ڈر اور علوشان جیسی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی اشیاء بھی اُن کے نزدیک ادب کے مقابلہ پر پہنچے ہیں۔وہ اپنے شاعروں کو پیغمبر اور اپنے ادیبوں کو دیوتا سمجھنے والے لوگ جن میں ادب اور ادیب کو ترقی کرنے کا بہترین موقع مل چکا تھا جب قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو زبانوں پر مہر لگ جاتی ہے اور آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔با وجود اس کے کہ نزول قرآن کریم کا زمانہ ان کا بہترین ادبی زمانہ تھا۔یا تو عرب کے چوٹی کے ادیب قریب ہی میں گذر چکے تھے یا ابھی زندہ موجود تھے وہ جب قرآن کریم کو سُنتے ہیں تو بے اختیار اس کے سحر ہونے کا شور مچا دیتے ہیں مگر وہی لفظ جو اس کے جھوٹا ہونے کے ثبوت کے