کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 139 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 139

۱۳۹ تفسیر میں قرآن شریف کی ایسی بہت سی پیش گوئیوں کی نشاندہی فرمائی جو قرآن مجید میں موجود تھیں اور اب اس زمانہ میں پوری ہو چکی ہیں اور قرآن مجید اور آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر زندہ نشان کی حیثیت رکھتی ہیں مثلاً مغربی اقوام اور روس کی ترقی ، ہر سویز اور نہر پانامہ کی پیش گوئی ، دخانی جہازوں کی پیش گوئی ریل ، موٹر، ہوائی جہاز کی ایجاد کی پیش گوئی ، ایٹم ہم اور ہائیڈ روجن بم کی پیش گوئی کا سمک ریزہ اور بموں کی پیش گوئی، بادشاہتوں کی تباہی اور جمہوریتوں کے قیام کی پیش گوئی، چڑیا گھروں کے قیام کی پیشگوئی ، وحشی اقوام کے متمدن بن جانے کی پیش گوئی، پریس کے قیام اور کتابوں کی بکثرت اشاعت کی پیش گوئی ، علم ہیئت کی ترقی کی پیش گوئی علم طبقات الارض کی ترقی کی پیش گوئی ، چاند اور مریخ کے زمین کے ساتھ وابستہ ہونے کی پیش گوئی ، علماء ظواہر کے عظیم دین سے لیے بہرہ ہو جانے کی پیش گوئی وغیرہ سینکڑوں پیش گوئیاں تفسیر کبیر میں ملتی ہیں جن سے قرآن مجید کا زندہ کتاب ہونا ثابت ہوتا ہے۔حضرت المصلح الموعود نے قرآنی آیات کی روشنی میں مستقبل کے متعدد النقلابات کے ظہور کا استدلالی تفسیر کبیر میں فرمایا جن میں سے بعض اس تفسیر کی اشاعت کے بعد ظاہر ہوئے مثلاً حضور نے مدتوں قبل سورہ بنی اسرائیل کی بعض قرآنی آیات سے استدلال کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ یہود نا مسعود کو سزا دینے کے لئے نہیں ایک دفعہ پھر فلسطین میں جمع کر دے گا۔یہ پیش گوئی ۱۹۴۸ء میں پوری ہوگئی جس کے بعد حضرت مصلح موعود نے قرآنی آیت اَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ المَلِحُونَ (الانبیاء : ۱۰۶) کی تفسیر کرتے ہوئے یہ پیش گوئی فرمائی کہ :