کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 108 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 108

۱۰۸ بھی کافی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس زمانہ کیلئے بھی رسول ہیں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ قرآن کے سات بطن ہیں اس سے ضروری نہیں کہ یہی مراد ہو کہ سات ہی بطن ہیں بلکہ ہو سکتا ہو گی۔نہیں۔پچاس ہو۔ہزار۔دو ہزارہ بطن ہوں کیونکہ عربی زبان میں سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ سبع سموات کے معنے یہی ہیں کہ خدا تعالٰی نے انسانی ترقیات کے لئے ہزاروں بلندیاں پیدا کی ہیں غرض فرمایا کہ قرآن کریم کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ یہ ہر زمانہ کے لئے کافی ہوگا۔اس میں ہر زمانہ کے خیالات پر بحث موجود ہوگی اگر اس زمانہ کے لوگوں کے خیالات غلط ہوں گے تو اُن کی تردید کی جائے گی اور اگر صحیح ہوں گے تو تائید کی جائے گی کیا ہے آيت ليظهر على الدين كلام الصف ع ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ار یہ زمانہ ایسا ہے جس میں فلسفہ اور تعلیم کی وجہ سے لوگ جزئیات کے متعلق سوالات کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اگر کوئی مذہب ستا ہے تو جزئیات میں اپنے آپ کو سچا ثابت کر کے دکھائے محض ایک دو مسائل میں کسی مذہب کا دوسرے مذہب پر غالب آجانا کافی نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الذين علم کے الفاظ ه تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ سوم م۳۵