کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 107 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 107

1۔4 تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جویہ فرمایا کہ قرآن کریم کے سات بطلن ہیں اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ دنیا میں سات بڑے بڑے تغیرات آئیں گے اور یہ تغیر کے زمانہ میں لوگوں کے ذہن بدل جائیں گے اس وقت خدا تعالٰی قرآن کریم کے ایسے معنی کھول دیگا جو لوگوں کو اس وقت کے ذہنوں اور قلوب کو تسلی دینے والے ہوں گئے اس زمانہ میں مبیعیوں مسائل ایسے رنگ میں کھلے ہیں کہ پہلے ان کی ضرورت اور اہمیت محسوس نہیں کی جا سکتی تھی۔۔۔۔تو قرآن کریم کے سات بطلن سے مراد سات عظیم الشان ذہنی اور عقلی اور علمی تغیرات ہو سکتے ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایسے تغیر میں قرآن کریم قائم رہے گا اور کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ہمارے زمانہ کی ضروریات کو قرآن پورا نہیں کرتا باقی الہامی کتابیں تو ایسی ہیں کہ جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب زمانہ بدلا اور دنیا میں تغیر آیا تو ان کتب میں جو کلام تھا اس کے وہ معنی نہ نکلے جو اس زمانہ کے ذہنوں کے مطابق ہوتے اس لئے وہ قابل عمل نہ رہیں مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوں جوں دنیا میں تغیر آتے جاتے رہیں گے اور لوگ قرآن پڑھیں گے اس زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والا مفہوم اس میں سے نکلتا آئے گا اور لوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن کریم ہی اس زمانہ کیلئے