کلامِ ظفرؔ — Page 99
181 کلا ظفر دعوت مشاعرہ کے جواب میں یا رب مشاعرے مشاعرے کو نہ اپنا قدم تک دماغ لے کے نہ مضموں اہم چلے جب شود شاعری میں نہ اپنا 182 نذر و نیاز جان ہے شرط رضائے تف ایسی عاشقی جو اک رو کتنے ہیں بد نصیب جو عاکف بتوں کلام ظفر قدم چلے ہیں کیا خوش نصیب وہ ہیں جو سوئے حرم چلے اس دن بنے گا دل یہ ہمارا خدا کا گھر ހނ صنم چلے کوئی بھی مشرک جہان میں ہے نہ اپنا گھسے قلم جس دن ہمارے خانہ دل تائید دین حق میں ہمارا قلم چلے باقی رہے نه آؤ نہ ہم بھی کام کریں تابعین سا یا رب! جہان شرک کچھ ایسا بم چلے کم چلے دھوکا ہے شرمندگی سی ہو گی اگر ان جس موج غم سے شاد ہوئے بندگان حق اے کاش اپنے دل میں وہی موج غم چلے دل ہوں وفور نور مانند کوه طور پھر ان سے شق و مہر و محبت کی یم چلے ہے آؤ چلیں بلاتا خود ساقی اگست پھر کب چلیں گے دوستو گر اب نہ ہم چلے ہوائے سراب وجود میں ہشیار ہیں تو وہ ہیں جو سوئے عدم چلے قسمت نہ تھی ہماری کہ ہم شاد کام ہوں ہیں متہم چلے ہم حفل یا رب تری ہی یاد میں تیرا ظفر جئے تک کہ جاں میں جان رہے اور دم چلے روزنامه الفضل 22 فروری 1990 صفحہ 2) جب