کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 92 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 92

کلام ظفر 167 اپنے خالق کے حضور دل کے آنگن میں بہاروں کا نظارا ہوتا تو کبھی آکے جو مہمان ہمارا ہوتا کلام ظفر 168 تیری دہلیز پہ مر جاتا خوشی کے مارے اندر آنے کا اگر مجھ کو اتارا ہوتا اے مری جان تمنا ! مجھے اتنا تو بتا وہ ادا کیا ہے کہ میں بھی تیرا پیارا ہوتا آسمانوں کے فرشتے مجھے سجدہ کرتے میں تو اندھا تھا میری جان تجھے پا نہ سکا تیری طاعت میں اگر وقت گزارا ہوتا ڈھونڈ پاتا جو مجھے تو نے پکارا ہوتا جا گراتا جو ترے نور کے قلزم میں مجھے دل کے دریا میں مرے کاش مرے کاش وہ دھارا ہوتا عہد پیری کو سمجھتا میں ملاقات کی رات رفتہ کو اگر میں نے سنوارا ہوتا یوں کڑی دھوپ میں کیوں مار کے پھینکا ہے مجھے ڈوب جاتا میں ترے بحر محبت میں اگر اپنی دیوار کے سائے میں تو مارا ہوتا پھر تلاطم نہ سفینہ نہ کنارا ہوتا آج تک دل میں ظفر کے یہ تڑپ ہے پیارے چھوڑ کر سارے جہاں کو وہ تمہارا ہوتا ہائے تنکوں کے سہاروں نے ڈبویا ہے مجھے جو ترے کاش نہ کوئی بھی سہارا ہوتا روز نامه الفضل 4 مارچ 1990 صفحه 2)