کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 91 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 91

یا 165 آسمانی نوشته کلا ظفر ملک استبداد مٹ کر بے نشاں ہو جائے گا آدمی انسان بن کر کامراں ہو جائے گا قدر ہو گی آدمی کی علم سے عرفان مال و زر کا زور گھٹ گھٹ کر نہاں ہو جائے گا یہ چمن جس پر ہیں اب چھائے ہوئے زاغ و زغن طوطیوں کا قمریوں کا آشیاں ہو جائے گا گلشن اسلام کی رنگیں بہاریں دیکھ کر خادمان باغ خوش باغباں ہو جائے گا ނ دیکھنا تم ملک ملک و نسل نسل و قوم قوم اک کٹھالی میں پڑیں گے امتحاں ہو جائے گا پھر کتاب زندگی میں ثبت ہونگے نقش کو عشق آتش گزر کر جاوداں ہو جائے گا نُور ނ محمد ! مجھ کو مجھ کو تیرے تیرے اسم احمد کی قسم سے تیرے منور گل جہاں ہو جائے گا 166 کلام ظفر احمدیت پھیل جائے گی جہاں میں چار سُو مطلع خورشید مغرب سے عیاں ہو جائے گا روس بھی جو رٹ رہا ہے لا الہ آج کل ذکر إِلَّا الله سے رطب اللساں ہو جائے گا جگمگا اُٹھے گی یہ دھرتی خدا کے نور سے مسکن نورانیاں خاک داں ہو جائے گا سامنے ہو گا ثبوت رَحْمَة للْعَالَمِين ملجاء اقوام تیرا آستاں ہو جائے گا الغرض میں کیا کہوں کہ کیا سے کیا ہو جائے گا اک نیا پیدا زمین زمین و آسماں ہو جائے گا ہم ہو! جنت دھتکارا ہوا قافلہ ایک دن پھر داخل باغ جناں ہو جائے گا وہ ملک جو بے خبر تھے خاکیوں کی شان سے سِرِ إِنِّي أَعْلَمُ “ اُن پر عیاں ہو جائے گا " دیکھنا تم اے ظفر ظالم و جاہل بشر حامل عرش خدائے دو جہاں ہو جائے گا (ماہنامہ الفرقان اپریل 1959ء صفحہ ب)