کلامِ ظفرؔ — Page 71
125 مقام مقام تو نگل اور دُعا اب میرے دردِ دل کی نہ کوئی دوا کرے یہ درد لا دوا ہے مگر ہاں دُعا کرے وہ مُرغ پر شکستہ جو اُڑنے سے رہ چکا رورہ کے گر ز میں یہ نہ رہے تو کیا کرے 66 فرمان تیرا خوب ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ “ لیکن جو بے زباں ہو وہ کیونکر صدا کرے ہمت نہ جس غریب میں ہو التجاء کی بھی تُو ہی بتا کہ تجھ سے وہ کیا التجاء کرے یا رب تو اُس کو اور بھی اپنے قریب کر جو میرے حق میں قُرب ترے کی دُعا کرے کلا ظفر 126 احوال محسر و ئیسر دگرگوں نہ کر سکیں بندہ ہر ایک حال میں بندہ رہا کرے طول أمل میں نفس مرا مبتلا نہ ہو راضی رہوں اسی جو میرا خدا کرے میں غیر کی جفاؤں کے شکوے کروں تو کیا اے میرے دل جو تو ہی نہ مجھ سے وفا کرے تدبیر بھی ہے قبضہ تقدیر میں ظفر مولی تجھے مقامِ تو گل عطا کرے کلام ظفر (ماہنامہ الفرقان مئی 1959 ء صفحہ 25 نیز روزنامه الفضل 27 نومبر 1995ء صفحہ 2)