کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 70 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 70

123 میری آرزو کلام ظفر عالم با عمل و عاشق قرآن بنوں آرزو ہے یہ کسی کی کہ سخندان بنوں ناقه عشق و محبت کا حدی خوان بنوں کوئی کہتا ہے کہ بن جاؤں مقرر اچھا دھاک تقریر کی ہو خانی سحبان بنوں ہے تمنا یہ کسی کی کہ سیاست سیاست میں بڑھوں رہنما قوم کا، ملت کا نگہبان بنوں 124 کوئی کہتا ہے کہ مل جائے خزانہ مجھ کو مال و دولت ہو بہت صاحب سامان بنوں کلام ظفر کوئی کہتا ہے کہ مل جائے حکومت مجھ کو سلّم چلتا ہو مرا صاحب فرمان بنوں آرزو ہے یہ کسی کی کہ بڑھوں حکمت میں بو علی سینا بنوں ہمسر لقمان بنوں کوئی کہتا ہے کہ بن جاؤں میں ایسا شہرور رستم وقت نہیں، رستم ازمان بنوں الغرض جتنے ہیں دل اتنی تمنائیں ہیں ہے خلاصہ یہ سبھی کا کہ میں ذیشان بنوں ہاں میرے دل میں بھی ہے ایک تمنا مولیٰ وہ اگر پوری ہو تو بندہ احسان بنوں کوئی کہتا ہے کہ اے کاش ہو شہرت حاصل آرزو تیرے ظفر کی ہے یہی بچپن۔عالم باعمل و عاشق قرآن بنوں جس کا ہر گھر میں ہو چر چاہیں وہ انسان بنوں (ماہنامہ الفرقان سالانہ نمبر نومبر دسمبر 1951ء صفحہ 43)