کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 63 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 63

109 کلام ظفر حضرت امیر المومنین سے التجا اے آنکہ نور حق ہو معارف کی کان ہو وے آنکہ حسن وعشق و محبت کی جان ہو مانا کہ تم ہو کشتی مسلم کے ناخدا مسرا سالار کاروان سی الزمان ہو تم مانا کہ آج چشمه آب بقا ہو پانی سے جس کے زندہ ہوا اک جہان ہو مانا که مثل نام ہے محمود تیرا کام پاتے تم اپنی ذات میں ہر ایک شان ہو پر تیری ان صفات کا کیا فائدہ اُسے دردِ فراقِ یار سے جو نیم جان ہو اک میری التجا ہے اگر مان لو اُسے الله مان لو کہ بڑے مہربان ہو وہ شمع حسن جس کا ہے پروانہ دل ترا 110 اور شک اگر ہو اس کو مری تاب دید میں تو مختصر تجلی سے ہی امتحان ہو دشوار گر ہو دید تو گفتار ہی سہی چہرہ نہیں دکھاتے تو گویا زبان ہو ہائے وہ اپنی ہستی باطل کو کیا کرے جس پر کہ مہربان ہی نا مہربان ہو آقا اُسے خدا سے ملا دو تو بات ہے جو مجھ سا پر شکستہ ہو اور نیم جان ہو تازیست میں نہ بھولوں گا احسان کو تیرے گر تیری مہربانی سے وہ مہربان ہو محروم وصلِ یار کو غربت ہے ہر وطن ملہ ہو یا مدینہ ہو یا قادیان ہو ملتا نہیں کسی سے وہ دلدار اے ظفر جب تک نہ اس کی راہ میں قربان جان ہو کلام ظفر (روز نامه الفضل قادیان 4 ستمبر 1936ء صفحہ 2) میرے بھی طورِ دل پہ وہ آتش فشان ہو نوٹ : سابقہ ایڈیشن میں بینظم نامکمل تھی اب اسے مکمل شائع کیا جارہا ہے۔