کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 61 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 61

105 کلام ظفر 106 کلام ظفر ٹوٹی ہوئی ہے تیری بھی زنجیر موج آج یعنی اسیر ہونے لگے رُستگار دیکھ صدیوں کی انتظار نے بخشا ہے یہ گہر دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ مدت سے ہے اسیر کمند ہوا ظفر ہے آقا بخشیم لطف ادھر ایک بار دیکھ روزنامه الفضل 16 جنوری 2015 ، صفحہ 2) حضرت مصلح موعود کا ایک پیغام پڑھ کر اے آنکہ ہے عزیز ہمیں جاں سے تیرا نام سایہ رہے سروں پہ ہمارے تیرا مدام پیغام کل دیا ہے جو ہم کو حضور نے تازیست ہم نہ بھولیں گے یہ آپ کا پیام لبیک عرض کرتے ہیں اس کے جواب میں صدق و وفا کی رُوح سے سرشار یہ غلام کم مایہ ہیں جہاں میں اگر ہم تو کیا ہوا ضامن ہے کامرانی کا اپنی خدا کا نام وابستگی ذیل خلافت کے فیض سے پیدا نئی زمین کریں گے نیا نظام