کلامِ ظفرؔ — Page 26
35 کلا ظفر مثلاً نمبر 4 حرف محرمانہ کے بارے میں لکھا ہے کہ صفحہ نمبر 21 کی آخری سطر نحو کی رو سے صفحہ نمبر 23 کی دوسری سطر کسی زبان میں نہیں مل سکتی ، تک خارج از کتاب۔بہر حال اپنی غلطی کو انہوں نے تسلیم کر لیا۔برق صاحب نے جس نا تمام انداز سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے وہ اُن کے طرز تحریر سے عیاں ہے، اس سے قاری کے پلے کچھ نہیں پڑتا ، چاہئے تھا کہ اس شخص کا شکر یہ ادا کرتے جس نے ان کی علمی راہنمائی کی اور نہ انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ اس میں مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے، اور کیوں یہ سطور خارج از کتاب ہیں، دیا ازاں بعد محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لاکپوری نے ”حرف محرمانہ “ کا جواب تحقیق عارفانہ کے نام سے دیا اور یہ نام بھی استاذی احترم مولانا ظفر صاحب کا ہی تجویز کیا ہوا ہے۔نیز آپ نے حرف محرمانہ کے جواب میں جو کچھ لکھا ہوا تھا۔وہ قاضی صاحب کے سپر د کر دیا اور انہوں نے اس کا مدلل جواب لکھا۔علم عروض کے متعلق پانچ اشعار علم عروض ایک خاصا مشکل علم ہے اور بڑے بڑے جغادری اس میں سکندری کھا جاتے ہیں مگر استاذی المحترم اس علم میں اعلیٰ درجہ کی مہارت رکھتے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ نے جب بھی اس کے متعلق کوئی بات فرمائی وہ حرف آخر کی حیثیت رکھتی تھی۔خاکسار جب فاضل عربی کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا تو ایک دن میں نے استاذی المحترم سے عرض کیا کہ علم عروض کو پانچ دائروں میں بیان کیا گیا ہے اور ہر دائرے میں متعدد بحریں ہیں پھر ان کے مختلف اوزان ہیں۔جن کے یاد کرنے میں خاصی مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے مجھے کوئی ایسا طریق بتائیں جس سے فوراً دائرے کا پتہ چل جائے اور بحر بھی معلوم ہو 36 کلام ظفر جائے اور اس کا وزن بھی معلوم ہو جائے۔آپ نے تبسم فرمایا اور باہر کی طرف چل دیئے۔ایک دن صبح صبح تشریف لائے اور فرمایا۔آپ کی الجھن کو میں نے حل کر دیا ہے۔قلم لے آؤ اور لکھو آپ نے مجھے پانچ اشعار لکھوائے۔جن میں دائرے کا نام بھی تھا اور اس میں جو بحریں استعمال ہوتی ہیں ان کے نام بھی تھے اور ان کے اوزان معلوم کرنے کا طریق بھی تھا۔میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق جب ان اشعار کی آزمائش کی ، تو علم عروض میرے لئے اس قدر آسان ہو گیا کہ چند دن کی مشق کے بعد میں خود کو عروضی خیال کرنے لگا۔اس بات کی توضیح کیلئے ایک شعر تحریر کرتا ہوں جس سے آپ خود اندازہ کر لیں گے کہ استاذی المحترم کو اللہ تعالیٰ نے کس قدر زرخیز ذہن عطا فرمایا تھا۔علم عروض کے ایک دائرہ کو مشتبہ کہتے ہیں اس میں نو بحریں استعمال ہوتی ہیں۔1 سریع، 2 جديد 3- قريب، 4- منسرح، 5۔خفیف، 6۔،مضارع 7 - مقتضب، 8- مجتث 9- مشاكل استاذی امحترم نے اسے لباس شعر میں یوں بیان کیا۔يَا مُشْتَبِه مَـاظـالمـا مَنْ سماك سَرُ، جَدُ، قَرِى، مَنْ، حَفُ، مضًا، مق، مَعُ، شَاك اس میں آپ نے ہر بحر کے پہلے حروف کو لے کر شعر بنایا ہے تا پتہ چل جائے کہ اس میں فلاں فلاں بحر استعمال ہوئی ہے اور ہر بحر کے وزن معلوم کرنے کا طریق یہ ہے کہ تین تین بحروں کو ملا کر پڑھا جائے تو بحر کا وزن معلوم ہو جاتا ہے۔مثلاً آپ کو بحرِ سریع کا وزن معلوم کرنا مطلوب ہے تو آپ اسے یوں پڑھئے۔سرجد قرى من خـف مـضـاء مـق مـج شـاك ستفعلن مستعفلن - مفعولات خلاصہ کلام یہ کہ آپ جس بحر کا وزن معلوم کرنا چاہیں، اسی سے آغاز کریں اور دائرے