کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 168 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 168

کلا ظفر 319 انا المِسْكِينُ مَقْصُوصُ الْجَنَاج غریب و بے نوا بے بال و پر ہوں وَشَوقُكَ قَدْ نَقَى عَنِّي رُقَادِي جدائی میں تڑپتا رات بھر ہوں فَكَمْ مِنْ لَيْلَةٍ لَا نَوْمَ فِيهَا گزاریں میں نے یوں راتوں پر راتیں وَقَاسَيتُ السُّهَادَ عَلَى السُّهَادِ رہا کر تا ستاروں ہی سے باتیں فَهَلْ مِنْ حِيْلَةٍ تُنْجِي جَنَانِي در دولت پہ تیرے کیسے آؤں وتُدنِينِي بِبَابِكَ يَا مُرَادِى وہ کیا حیلہ ہے جس سے تجھ کو پاؤں کلام ظفر 320 تَعَالَ إِلَى يَا مَلَكَ الْمُلُوكِ عدوا اقلیم دل کرتا ہے ویراں وَاخْرِجُ مَنْ تَحَكَمَ فِي بِلادِى نکال آ کر اُسے اے شاہ شاہاں وَاشْعِلُ فِي جَنَانِي نَارَ حُبّ میرے دل میں تو آگ ایسی لگادے تُغادِرُ كُل نَارٍ كَالرِّماد جو ہر آتش کو خاکستر بنادے وهبي لي ودادًا مِنْ لَدُنْكَ عطا کر وہ مجھے مہر و محبت فَدَيْتُكَ بِالطَّرِيفِ وَبِالتَّلَامِ لٹا دوں جس پر میں ہر ایک دولت