کلامِ ظفرؔ — Page 153
289 مَنْ هَمُّهُ ارْوَاءُ بُسْتَانِ الْهُدَى مِنْ مَاءٍ مُزْنِ الحُبِّ أَوْ عَبْرَاتِهِ کلام ظفر اس کو محض یہ فکر دامن گیر ہے کہ کسی طرح محبت کے بادلوں اور اپنے اشکوں سے امت کے باغ کو سیراب کر دے مَن فِي الشَّجَاعَةِ وَالْحَمَاسَةِ أَسْوَةٌ لوفاة دِينِ مُحَمَّدٍ وَحُمَاتِهِ جو حامیان دینِ محمدؐ کے لئے اپنی شجاعت اور بہادری میں بہترین نمونہ ہیں۔يحيى حَمَى الدِّينِ الْمَتِينِ يَمَالِهِ وَلِسَانِهِ وَبِبَثْلِهِ صِحَاتِهِ جو دینِ متین کی اپنی جان و مال اور زبان کے ساتھ حمایت کر رہے ہیں۔اني آرَاهُ مُشَابِهًا يَمَسِيحِنَا في حُسْنِ سِيرَتِهِ وَفِي عَادَاتِهِ میں انہیں حسن سیرت اور اخلاق و عادات میں اپنے مسیح کے مشابہ پاتا ہوں۔وَنَظِيرَة فِي حُسْنِه وَجَمَالِهِ ومَئِيلَةَ فِي حِلْمِهِ وَانَاتِهِ نیز انہیں حسن و جمال اور علم اور برد باری میں بھی آپ کا مثیل پاتا ہوں۔(290 أأَنتَ الْآنَ تُنْكِرُ شَأْنَهُ وَعَرَفْتَهُ مِنْ قَبْلِ ذَا بِصِفَاتِهِ کلام ظفر کیا اب تو اُن کی شان سے منکر ہے حالانکہ اس سے پہلے تو اُن کی صفات کا معترف تھا۔أَنْتَ الَّذِي قَدْ قُلْتَ فِيْهِ مُقَرَّظًا لِمَسِيحِنَا ذَا الْإِبْنُ مِنْ آيَاتِهِ تو وہی تو ہے جس نے اُن کی زندگی میں تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسیح موعود کا یہ فرزند آپ کے نشانات میں سے ہے۔فالان لِمَ غَادَرُتَهُ يَا ابْنَ الْجَفا وَأَقَمْتَ نَفْسَكَ فِي صُفُوفِ رُمَاتِهِ پس آے جفا کار! اب تو اُن کو کیوں چھوڑ گیا ہے اور اپنے آپ کو اُن کے طعنہ زنوں کی صفوں میں کیوں کھڑا کر لیا ہے؟ اتظُنُّ نَفْسَكَ بِالْخِلَافَةِ أَجْدَرًا کیا تو اپنے آپ کو خلافت کا اہل سمجھتا ہے ان عِندَكَ الْبُرْهَانُ كَانَ فَهَاتِهِ اگر تیرے پاس کوئی دلیل ہے تو اُسے پیش کر ( مطبوعہ الفضل قادیان 21 دسمبر 1933 ، صفحہ 2)