کلامِ ظفرؔ — Page 131
کلام ظفر 246 کلام ظفر (245 ایک دوست نے حیدر آباد دکن سے مجھے اپنا بہت سا کلام به غرض اصلاح بھجوا دیا اور ساتھ ہی لکھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب مجھے خواب میں ملے اور فرمایا کہ اپنا کلام ظفر محمد سے ٹھیک کراؤ۔میں بیمار تھا۔ذیل کے تین شعر لکھ کر انہیں اُن کا کلام واپس بھجوا دیا۔سچ کہہ دوں اے برادر! گر تُو بُرا نہ مانے بھاتے نہیں مجھے اب شِعروسخن، ترانے پیری کے فیض سے اب حالت بدل چکی ہے شاید ہیں یاد تجھ کو گزرے ہوئے زمانے جس نُورِ دیں نے تجھ کو رستہ میرا دکھایا آیا نہیں مجھے وہ رستہ تیرا دکھانے آپ بد قسمت ہے جو محروم ہے ورنہ تیرے فیض کا ہے در کھلا نہ کسی سے دوستی ہے نہ کسی سے دشمنی ہے به فقر عجب ظفر ہے ہر حال میں غنی ہے ایسے ہیں آپ جامعہ والوں کے سامنے تمام ہلالوں کے زمانے آئے میرے عزیز ہیں مرے مزار پر رحمت خدا کی مانگنے مُشتِ غبار پر 邀