کلامِ ظفرؔ — Page 130
کلام ظفر (244) کلام ظفر (243 O عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ جہاں کو پہنچا دے اے پیمبر! بہ لفظ شیریں پیام میرا دلوں میں کر انقلاب پیدا سُنا سنا کر کلام میرا مگر رہے یاد یہ حقیقت کہ تو مصیطر نہ محتسب ہے حساب لینا نہ تو کسی سے، حساب لینا ہے کام میرا ہم احمدی جواں ہیں خُدام احمدیت خدام ملک و ملت ، خُدامِ آدمیت دُنیا میں دو ہی چیزیں مقصودِ زندگی ہیں اللہ کی عبادت، خلق خدا کی خدمت