کلامِ ظفرؔ — Page 125
233 اسلام کا ہے درد میرے دل میں جاگزیں رونا میرا وضو ہے تڑپنا نماز ہے کلا ظفر يارب تو میری ساری خطائیں معاف کر بگڑی مری بنا دے کہ تو کارساز ہے مانا کہ میں گناہوں میں حد سے گزر گیا لیکن تری بھی چادر رحمت دراز ہے اپنے خدائے پاک سے بس دل لگا ظفر گر ساتھ گوش ہوش ہے اور چشم باز ہے زمانہ طالب علمی رسالہ جامعہ احمد یہ سالانہ نمبر دسمبر 1930ء صفحہ 7 روز نامہ الفضل 24 /اکتوبر 1974 ء صفحہ 2) 234 تحريض عمل نفس امارہ و شیطان سے لڑنا ہے مجھے دو جہاں جس سے ملیں کام وہ کرنا ہے مجھے بس ابھی آتا ہوں میدانِ عمل میں ہم دم جو ہر علم سے کچھ اور سنورنا ہے مجھے دیکھ لوں راہ عمل علم کی عینک سے ذرا آگے آگے ابھی اس راہ یہ چلنا ہے مجھے زندہ ہوسکتی ہے گر قوم میرے مرنے سے تو بہت شوق سے منظور یہ مرنا ہے مجھے صورت شمع جلا قوم کی محفل میں مجھے یا الہی میری جنت یہی جلنا ہے مجھے کلام ظفر