کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 121 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 121

(225 کلام ظفر 226 کلام ظفر بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا خود مسلماں کا بھی مشکل ہے مسلماں ہونا کب الہی تیرے فضلوں سے مسلماں ہونگا اب تلک ہاتھ نہ آیا مجھے انساں ہونا کوئی مومن بھی ہو پھر سُست ہو، ناممکن ہے شانِ ایمان سے ہے دُور تن آساں ہونا عيش دو روزہ میں کھو دینا نشاط جاوید اس سے کیا بڑھ کے بھلا اور ہے ناداں ہونا جاده عشق پہ چلنا جو ہے دشوار تو کیا کار مشکل کا بھی مشکل نہیں آساں ہونا کیوں مرے خانہ دل کی یہ بنا ڈالی تھی گر نہ منظور تھا یاں آپ کو مہماں ہونا کششِ ذوق طلب نے مجھے کیا بخشا ہے چشم دل کر گیا وا آپ کا پنہاں ہونا اپنے ہی فضل سے وہ بات عطا کر مولیٰ لوگ کہتے ہیں جسے صاحب ایماں ہونا یہ جہاں بیچ ہے مل جائے ہمیں دار بقا گر میتر ہو ہمیں عامل قرآں ہونا لا جرم سارے مذاہب میں ہے کچھ قربانی لیکن اسلام ہے ہر حال میں قرباں ہونا بات دل کی نہ کبھی مان کہ ناداں ہے یہ چاہیے نفس پہ تو عقل کا سلطاں ہونا کیسی پھر لیت و لعل کہہ چکے آمنا جب کام اپنا ہے فقط تابع فرماں ہونا جُز تَوَكَّلْتُ عَلَى الله نہیں زاد مرا مجھے کو منظور نہیں بندہ ساماں ہونا ہے پریشانی خاطر کا فقط ایک علاج یاد مولیٰ میں ظفر دل کا پریشاں ہونا زمانہ طالب علمی رسالہ جامعہ احمدیہ جولائی 1930 ء صفحہ 11)