کلامِ طاہر — Page 84
کوئی قشقہ دکھوں کا ہے نه عمامه کوئی ہندو ہے ہر ستم گر کو گر کو ہو ہو نہ مسلم ہے اے کاش نہ عیسائی ہے یہ عرفان نصیب بھی ہر دین کی رُسوائی ہے بادة عشق ہے درمان اگر ہے کوئی مت ہمیں چھوڑ کے جا ساقی کہ غم باقی ہیں ہم نہ ہوں گے تو اُجڑ جائے گا کے خانہ غم درو کے جام لنڈھا ساقی کہ ہم باقی ہیں جہانوں کے لئے بن کے جو رحمت آیا ہر زمانے کے دکھوں کا ہے مد اوا وہی ایک اُس کے دامن سے ہے وابستہ گل عالم کی نجات بے سہاروں کا ہے اب ملیا ماوی وہی ایک 84 ( صلى الله عليه و على آله و سلّم) (جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۹۳ء) 1