کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 265

کلامِ طاہر — Page 83

بھی شاید کوئی بھٹکا ہوا رو گھڑی ہے قلب کے غم خانے میں ستائے گا راہی اوٹ تیرگی پاس کی جب وقت سحر کرن امید اُمید کی پھوٹے گی چلا جائے گا خانہ دل میں اتر کر فقیروں کے غم ناله شب نصیب اپنا جگا لیتے ہیں دل کو اک شرف عطا کرکے چلے جاتے ہیں أجنبي غم محسن مرے مرا کیا لیتے ہیں کوئی مذہب ہے سسکتی ہوئی رُوحوں کا نہ رنگ ہر ستم دیده کو انسان ہی پایا ہم نے بن کے اپنا ہی لیٹ ہی لیٹ جاتا ہے جاتا ہے روتے روتے غیر کا دُکھ بھی جو 83 سے لگایا لگایا ہم نے