کلامِ طاہر — Page 59
! گرد آلود تھا پتہ پتہ ٹوٹ کے یادیں برسیں ، کلی کلی کھلائی ہوئی ہر بوٹا نہلایا ساری رات روتے روتے سینے پر سر رکھ کر سو گئی اُن کی یاد کون پیا تھا ؟ کون پریمی ؟ بھید نہ پایا ساری رات وہ یاد آئے جن کے آنسو تھے غم کی خاموش گتھا میرے سامنے بیٹھ کے روئے ، دکھ نہ بتایا ساری رات رات وہ یاد آئے جن کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ تھا سوجے نین دکھائے اپنے اور رُلایا ساری بچے بھوکے گریاں ترساں ، دیپک کی کو لرزاں لرزاں کٹیا میں افلاس کے بھوت کا نا چا سایا ساری رات مجھ ہے ڈولا اوروں کے دُکھ درد میں تو کیوں ناحق جان گنواتا کو کیا کوئی بے شک تڑپے ، ماں کا جایا ساری رات صُبح صادق صادق پر صدیقوں کا صدیقوں کا ایمان نہیں اندھی رات کے گھور اندھیروں نے بہکایا ساری رات راتوں کو خُدا سے پیار کی کو اور صبح جُوں سے یارانے نادان گنوا بیٹھے دن کو جو یار کمایا ساری رات (جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۹۰ء) 59