کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 265

کلامِ طاہر — Page 58

1 کون پیا تھا؟ کون پر یمی؟ اُن کو شکوہ ہے کہ ہجر میں کیوں تڑپایا ساری رات چن کی خاطر رات کٹا دی ، چین نہ پایا ساری رات اُن کے اندیشوں میں دل نے کیسے کیسے گھبرا کر سجی سینے کے دیوار و در ، سر ٹکرایا ساری رات یادوں کی محفل ، مہمانوں نے تاپے ہاتھ نے اپنا کوئلہ کوئلہ أن ت دل دہکایا ساری رات شکوہ کیا جن کی یاد نے بیٹھ کے پہلو میں ساری رات آنکھوں میں کائی < ورد بٹایا ساری رات اُن سے شکایت کس منہ سے ہو جن کے ہوں احسان بہت جن کی گومل یاد نے دُکھتا دل سہلایا ساری رات 58