کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 265

کلامِ طاہر — Page 53

دَشتِ طلب میں طلب میں جا بجا 6 بادلوں کے ہیں دل پڑے کاش کسی کے دل سے تو چشمہ فیض اُبل بے آسراؤں کے لئے کوئی تو اشکبار ہو پیاس بجھے غریب کی تشنہ کیوں کو گل دردوں دُکھوں سے لد گیا سموم چمن آه فقیر ނ مرے اشک اُبل اُبل پڑے چشم خویں کے پار اُدھر درد نہاں کی جھیل پر رکھلتے ہیں کیوں کسے خبر ، حسرتوں کے گنول پڑے شود و زیاں سُرور و غم ، روشنیوں کے زیر و بم آس مجھے تو پاس کے ریپ کی کو اُچھل پڑے 53 }