کلامِ طاہر — Page 41
آ مرے چاند میری رات بنے تو مرے دل کی شش جہات بنے اک نئی میری کائنات بنے تو جو میرا بنے تو بات بنے جو تیرا ہے لاکھ ہو میرا نچ ہے مجھ سے منقطع ہر ذات جس کا تو ہو اُسی کی ذات بنے عالم رنگ و بُو کے گل بوٹے! خواب ٹھہرے ، توہمات بنے سادہ باتوں کا بھی ملا نہ جواب سب سوالات مظلمات بنے یہ شب و روز و ماه و سال تمام کیسے پیمانہ صفات بنے! ہوئی میزان ہفتہ کب آغاز؟ کیسے دن رات سات سات بنے؟ عالم حیرتی کے مندر میں کبھی بُت مظہر صفات بنے کبھی مخلوق ہو گئی ہمہ اوست آتش و آب ، عین ذات بنے کتنے منصور چڑھ گئے سر دار کتنے نعرے تعلیات بنے 41