کلامِ طاہر — Page 32
جب سے خُدا نے ان عاجز کندھوں پر بار امانت ڈالا راہ میں دیکھو کتنے کٹھن اور کتنے مہیب مراحل آئے بھیڑوں کی کھالوں میں لیٹے ، کتنے گرگ ملے رستے میں مقتولوں کے بھیس میں دیکھو ، کیسے کیسے قاتل آئے آخر شیر خدا نے پھر کر ، ہر بن باسی کو للکارا کوئی مبارز ہو تو نکلے ، سامنے کوئی مسائل آئے ہمت کس کو تھی کہ اُٹھتا ، کس کا دل گردہ تھا نکلتا کس کا پتا تھا کہ اُٹھ کر ، مردِ حق کے مقابل آئے آخر طاہر سچا نکلا ، آخر ملاں نکلا جھوٹا جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِل ، انَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ملاں کیا روپوش ہوا اک ، پلتی بھاگوں چھینکا ٹوٹا اپنے مُریدوں کی آنکھوں میں بجھونکی دُھول اور پیسہ لوٹا قریہ قریہ فساد ہوئے تب ، فتنہ گر آزاد ہوئے سب احمدیوں کو بستی بستی پکڑا دھکڑا مارا کوتا کر ڈالیں مسمار مساجد کوٹ لئے کتنے ہی معاہد جن کو پلید کہا کرتے تھے، لے بھاگے سب اُن کا جوٹھا 32