کلامِ طاہر — Page 31
جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِل دیکھو اک شاطر دشمن نے کیسا ظالم کام کیا پھینکا مکر کا جال اور طائر حق زیر الزام کیا ناحق ہم مجبوروں کو اک تہمت دی جلادی کی قتل کے آپ ارادے باندھے ہم کو عبث بدنام کیا دیکھو پھر تقدیر خدا نے ، کیسا اُسے ناکام کیا مکر کی ہر بازی اُلٹا دی ، دجل کو طشت از بام کیا اُلٹی کیا پڑ گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دعا نے کام دیکھا اس بیماری دل نے ، آخر کام تمام کیا زنده باد غلام احمد ، پڑ گیا جس کا دشمن جھوٹا جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِل ، أَنَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا 31