کلامِ طاہر — Page 192
حرفوں کے بدن۔اشکوں کے دھاروں کے سہارے بھیگی ہوئی بجھتی ہوئی۔مٹتی ہوئی آواز اظہار تمنا وه اشاروں کے سہارے وہ ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہنا رخصت سہارے میں نے نہیں جینا نگہداروں کے وہ جن کو نہ راس آئیں طبیبوں کے دلاسے شاید کہ بہل جائیں۔نگاروں کے سہارے T بیٹھ مرے پاس مرا دست تہی تھام چھوڑ کے جا درد کے ماروں کے سہارے آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آخری دو اشعار کی طرف توجہ دلا دی کہ ان کے درمیان کچھ کمی تی معلوم ہوتی ہے۔مجھے بھی لگ رہا تھا۔بہر حال آپ نے بہت اچھا کیا جو توجہ دلائی۔شروع میں ان سے میں مخاطب ہوں مگر آخر پر وہ مجھ سے مخاطب ہیں۔اس لئے مضمون کو مزید کھولنے کے لئے میں نے چند نئے شعروں کا اضافہ کر دیا ہے۔امید ہے اب اس سے بات واضح ہو جائے گی۔انشاء اللہ تعالٰی “ ( مكتوب ۱۹۳-۱۲ صفحه ۲۹٬۲۸) اعراب اور تلفظ کی غلطیوں کے بارہ میں راہنمائی اعراب کی غلطیاں بھی آپ نے سمجھا سمجھا کر لغات کے حوالے سے بتائیں۔صرف چند مثالیں ملاحظہ ہوں :۔☆ لفظ مناروں نہیں ، مناروں ہے۔مینار درست ہے جب 'ی' کے ساتھ آئے اور جب 66 دی کے بغیر ہو تو منا ر ہوتا ہے۔" 38