کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 265

کلامِ طاہر — Page 6

از باغباں پترس که من شارخ متمرم خدا بعشق محمد محترم بعد از گر کفر این بود بخدا سخت کارفرم آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے بر سے ہے شرق و غرب پر یکساں تر اگرم تو مشرقی نہ مغربی اے نور شش جہات تیرا وطن عرب ہے، نہ تیرا وطن عجم تو نے مجھے خرید لیا اک نگہ کے ساتھ اب تو ہی تو ہے تیرے سوا میں ہوں کالعدم ہر لحظہ بڑھ رہا ہے میرا تجھ سے پیار دیکھ سانسوں میں بس رہا ہے ترا عشق دم بدم میری ہر ایک راہ تری سمت ہے رواں تیرے سوا کسی طرف اٹھتا نہیں قدم اے کاش مجھ میں قوت پرواز ہو تو میں اُڑتا ہوا بڑھوں ، تری جانب سُوئے حرم تیرا ہی فیض ہے کوئی میری عطا نہیں " این چشمہ رواں کہ خلق خدا دہم یک قطره زبحر کمال محمد است جان و دلم فدائے جمال محمد است خاگم نثار کوچه آل محمد است