کلامِ طاہر — Page 2
وہ پاک محمد ہے ہم سب کا حبیب آقا انوار رسالت ہیں جس کی چمن آرائی محبوبی و رعنائی کرتی ہیں طواف اُس کا قدموں پہ نثار اُس کے جمشیدی و دارائی نبیوں نے بھائی تھی جو بزم مہ و انجم واللہ اُسی کی تھی سب انجمن آرائی دن رات درُود اُس پر ہر ادنی غلام اُس کا پڑھتا ہے بصد منت جیتے ہوئے نام اُس کا آیا وہ غنی جس کو جو اپنی دعا پہنچی ہم ڈر کے فقیروں کے بھی تخت سنوار آئی ظاہر ہو وہ جلوہ جب اُس سے نگہ پلٹی خود حُسنِ نظر اپنا سو چند نکھار آئی اے پشم جواں دیدہ کھل گھل کہ سماں بدلا اے فطرت خوابیدہ اُٹھ اُٹھ کہ بہار آئی ، اللہ امام اُس کا نبیوں کا امام آیا سب تختوں سے اونچا ہے تخت عالی مقام اُس کا اللہ کے آئینہ خانے سے شریعت کی نکلی وہ دُلہن کر کے جو سولہ سنگار آئی اُترا وہ خدا کو و فارانِ محمد پر موسیٰ کو نہ تھی جس کے دیدار کی یا رائی سب یادوں میں بہتر ہے وہ یاد کہ کچھ لمحے جو اُس کے تصور کے قدموں میں گزار آئی وہ ماہِ تمام اُس کا ، مہدی تھا غلام اُس کا روتے ہوئے کرتا تھا وہ ذکر مدام اُس کا 2