کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 265

کلامِ طاہر — Page 111

دن آج کب ڈھلے گا۔کب ہوگا ظہو رشب دن آج کب ڈھلے گا۔کب ہو گا ظہورِ شب ہم کب کریں گے چاک گریباں۔حضور شب آہ و بکا پہ پہرے ہیں۔دل میں فغاں ہے بند اے رات! آ بھی جا کہ رہا ہوں طیورِ شب ہوش و حواس گم تھے۔کے تاب دید تھی جب جگمگا رہا تھا برقی تجلی سے طور شب امشب نہ تو نے چہرہ دکھایا تو کیا عجب صبح کا منہ نہ دیکھے دل ناصبور شب لیلائے شب کی گود میں سویا ہوا تھا چاند سیماب زیب تن کئے بیٹھی تھی حُورِ شب ئے سی اُتر رہی تھی کواکب سے نور کی ہر سمت بٹ رہی تھی شراب طهور شب ناگاہ تیری یاد نے یوں دل کو بھر دیا گویا سمٹ گیا اُسی کوزہ میں نور شب اس لمحہ تیرے رشک سے شبنم تھی آپ آب میگی میں میل رہا تھا پکھل کر غرور شب سب جاگ اٹھے تھے پیار کے ارماں نہ تمام پھونکا تھا کس نے گوش محبت میں مصور شب لمحات وصل جن یہ ازل کا گمان تھا چنگی میں اُڑ گئے وہ طیور سرور شب الفضل انٹر نیشنل لندن۔۱۲ر جون ۱۹۹۸ء) 111