کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 265

کلامِ طاہر — Page 97

محبتوں کے نصیب میرے درد کی جو دوا کرے ، کوئی ایسا شخص ہوا کرے وہ جو بے پناہ اُداس ہو ، مگر ہجر کا نہ گلہ کرے مری چاہتیں میری قربتیں جسے یاد آئیں قدم قدم تو وہ سب سے چُھپ کے لباس شب میں لپٹ کے آہ و بکا کرے بڑھے اُس کا غم تو قرار کھو دے ، وہ میرے غم کے خیال ނ اُٹھیں ہاتھ اپنے لئے تو پھر بھی میرے لئے ہی دُعا کرے قصص عجیب و غریب ہیں یہ محبتوں کے نصیب ہیں مجھے کیسے خود سے جُدا کرے ، اُسے کچھ بتاؤ کہ کیا کرے کبھی طے کرے یونہی سوچ سوچ میں وہ فراق کے فاصلے میرے پیچھے آکے دبے دبے ، میری آنکھیں موند ہنسا کرے 97