کلام محمود مع فرہنگ — Page 57
چھپیں وہ لاکھ پر دوں میں ہم اُن کو دیکھ لیتے ہیں خیالِ رُوئے جاناں ہم سے پنہاں ہو نہیں سکتا در خالص سے بڑھ کر صاف ہونا چاہیے دل کو ذرا بھی کھوٹ ہو جس میں مسلماں ہو نہیں سکتا ہوا آخر نکل جاتی ہے آزارِ محبت کی چھپاؤ لاکھ تم اس کو وہ پنہاں ہو نہیں سکتا نظر آتے تھے میرے حال پر وہ بھی پریشاں سے یہ میرا خواب تو خواب پریشاں ہو نہیں سکتا خُدایا مدتیں گزریں تڑپتے تیری فُرقت میں رترے ملنے کا کیا کوئی بھی ساماں ہو نہیں سکتا بھلاؤں یاد سے کیوں کر کلام پاک دلبر ہے عبدا مجھ سے تو اک دم کو بھی قرآں ہو نہیں سکتا مکان دل میں لا کر میں غیم دلبر کو رکھوں گا مُبارک اس سے بڑھ کر کوئی مہماں ہو نہیں سکتا 57