کلام محمود مع فرہنگ — Page 56
22 کوئی گیسو میرے دل سے پریشاں ہو نہیں سکتا کوئی آئینہ مجھ سے بڑھ کے حیراں ہو نہیں سکتا کوئی یاد خُدا سے بڑھ کے مہماں ہو نہیں سکتا وہ ہو میں خانہ دل میں وہ ویراں ہو نہیں سکتا اہی پھر سبب کیا ہے کہ درماں ہو نہیں سکتا ہمارا درد دل جب تجھ سے پنہاں ہو نہیں سکتا کوئی مجھ سا گناہوں پر پشیماں ہو نہیں سکتا کوئی یوں غفلتوں پر اپنی گریاں ہو نہیں سکتا چُھپا ہے ابر کے پیچھے نظر آتا نہیں مجھ کو میں اس کے چاند سے چہرہ پر قرباں ہو نہیں سکتا خدا را خواب میں ہی آکے اپنی شکل دکھلا دے میں آپ تو صبر مجھ سے اے میری جاں ہو نہیں سکتا وہاں ہم جانہیں سکتے یہاں وہ آنہیں سکتے ہمارے درد کا کوئی بھی کو زماں ہو نہیں سکتا 56