کلام محمود مع فرہنگ — Page 50
مهدی دوران کا جو خاک پا ہو جائے گا مہر عالمتاب سے روشن ہوا ہو جائے گا جو کوئی تقویٰ کرے گا پیشوا ہو جائے گا قبلہ رخ ہوتے ہوئے قبلہ نما ہو جائے گا جس کا مسلک زُھد و ذکر و آتا ہو جائے گا پنجہ شیطاں سے وہ بالکل رہا ہو جائے گا دیکھ لینا ایک دن خواہش کر آئے گی مری میرا ہر ذرہ مُحمّد پر فدا ہو جائے گا نقشِ پا پر جو محمد کے چلے گا ایک دن پیروی سے اس کی محبوب خدا ہو جائے گا دیر کرتے ہیں جو نیکی میں ہے کیا ان کا خیال موت کی ساعت میں بھی کچھ انتوا ہو جائے گا دشمن اسلام جب دیکھیں گے اک قہری نشاں جاں نکل جائے گی ان کی دم فنا ہو جائے گا نائب خیر السا ہو کر کرے گا کام ہے وارث تختِ محمد میرزا ہو جائے گا 50