کلام محمود مع فرہنگ — Page 384
وقت شائع کروں گا۔اس وقت صرف اس مختصر نوٹ کے ساتھ اس دعائیہ نظم کو شائع کرتا ہوں۔نظم نمبر 92 (الفضل 9 جولائی 1933 ء) آہ پھر موسم بہار آیا کئی سال ہوئے پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے ایک کاغذ پر کچھ مصرعے اور شعر امتہ الحی مرحومہ کے لکھے ہوئے ملے تھے۔نہ معلوم اُن کے تھے۔یا کسی کے شعر پسند کر کے نقل کئے تھے۔ان میں سے ایک شعر پر میں نے ایک نظم کہی تھی۔جو شائع ہو چکی ہے۔ایک اور شعر پر چار بند کیے تھے لیکن وہ نظم نامکمل پڑی رہی۔کے ڈلہوزی کے سفر میں وہ بند لکھے گئے ، اور اس کے بعد طبیعت اس طرف سے ہٹ گئی کئی دفعہ کوشش کی لیکن مضمون بالکل بند معلوم ہوتا تھا۔اس دفعہ پالم پور میں اس طرف طبیعت میں رغبت پیدا ہوئی۔اور میں نے اس نظم کو پورا کیا۔اب مجھے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ وہ کون سا شعر یا مصرع تھا۔جو امتہ المی مرحومہ کا لکھا ہوا مجھے ملا تھا۔نہ یہ کہ اسے میں نے پورا نقل کیا ہے یا تصرف کے ساتھ اسے استعمال کیا ہے۔بہر حال اس قدر یقینی بات ہے کہ ان کا منتخب شدہ یا کہا ہوا شعر غالبا به تصرف اس نظم کے پہلے بند میں موجود ہے۔اور وہی اس نظم کا محرک ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اس مرنے والی پر اور اپنے قرب میں جگہ دے۔اس نظم میں سالک کے قرب کی اس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔جب اسے معشوق کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔جب ہر ذرہ اسے اپنی طرف متوجہ کرتا اور پھر اس توجہ کو حسن ازل کی طرف منتقل کر دیتا ہے جب ہر اچھی چیز اسے درد ہجر سے آشنا کرتی۔اور ہر حلو حسن جدائی کی تکلیف کو تیز کر دیتا ہے۔جب آرام اس کے لئے مصیبت اور خوشی اس کے لئے افسردگی پیدا کرنے کا موجب ہو جاتی ہے۔وہ ہر شے میں خدا تعالے کو دیکھتا۔لیکن پھر اس سے اپنے کو دور پاتا ہے۔درحقیقت یہی اس کی پہلی منزل کی آخری گھڑیاں ہوتی ہیں۔اس حالت کو لمبا اس کے دل کی صفائی کے لئے کیا جاتا ہے ورنہ در اصل اس وقت دونوں طرف آگ برابریگی ہوئی ہوتی ہے۔خدا کی محبت اس کے بندہ کے دل پر گرنے کے لئے اسی طرح بے چین ہو رہی ہوتی ہے جس طرح کہ بندہ کا عشق اس کے دل کو بے تاب کر رہا ہوتا ہے۔الفضل 25 جولائی 1933 ء) 378