کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 383

اور سنجیدگی سے اس امر کو ظاہر کرنے لگتا ہے۔کہ اس کے تعلقات ہی ایسے ہیں کہ وہ بد نہیں ہو سکتا مگر اس اصرار کی حالت میں پھر اس کے دل میں اپنی محبت کے جذبات ترقی کر کے اُسے شہد میں ڈال دیتے ہیں۔اور وہ اپنی خیالی جنت میں کھڑا ہو کہ ناراضگی کو صرف بناوٹ خیال کرنے لگتا ہے۔مگر عاشقانہ بیتابی اسے اس حالت پر بھی کھڑا رہنے نہیں دیتی۔اور پھر ناراضگی کو حقیقی سمجھنے گتا ہے۔اسی طرح اس کے خیالات کئی پلٹے کھاتے ہیں۔اور آخر وہ والہانہ طور پر معشوق سے اپیل کرتا ہے کہ اگر کچھ وجہ بھی ہے تو جانے دو۔اور اپنے قرب سے مجھے محروم نہ کرو۔کیا خداتعالی کی سی تی سی اس التجا کا انکار کر سکتی ہے ہے ہر گز نہیں۔الفضل 10 فروری 1938 ء) نظیم نمبر 89 مرا دل ہو گیا خوشیوں سے معمور الحمد للہ کہ اس وقت میرے سات بچے قرآن کریم ختم کر چکے ہیں۔اور ایک اللہ تعالیٰ کے فضل سے حافظ قرآن بھی ہے۔یہ محض اللہ تعالے کا فضل ہے اور میں اس کے فضل سے امید کرتا ہوں۔کہ دوسرے بچوں کو بھی اس نعمت عظمی سے حصہ لینے کی توفیق دے گا اور خدمت دین کا موقع دے کر اور اپنے قرب کی نعمت بخش کر اپنے احسانوں کی زنجیر کو مکمل کرے گا۔میں نے کچھ شعر اسی خوشی میں بطور شکریہ و دعا کہے ہیں اور عزیزہ امتہ السلام بنیم کو بھی جو ہم سب بہن بھائیوں کی اولاد میں صرف ایک ہی یاد گار حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلاتی ہو) کے زمانہ کی ہے، اس آمین میں شامل کر لیا ہے۔اشعار درج ذیل ہیں۔الفضل 7 جولائی 1931 ء) نظم نمبر 91 کر رحم اے رحیم مرے حال زار پر ذیل میں چند اشعار دعائیہ و اظہار حال درج ہیں۔اس کے آخر میں میں احساس کا ذکر ہے۔اس کے متعلق اس نظم کے بعد ایک رویا، دیکھی جس سے دل کو ایک حد تک تسلی ہوئی۔گو رویا اس رنگ میں نہ تھی کہ اس سے ليطمئن قلبی کا مفہوم پورا ہوتا ہو لیکن پھر بھی دعا کی قبولیت کا ایک ظاہری نشان ضرور تھی مگر میں رویات کے معاملہ کو اپنے مضمون کے تمہ کے لئے اٹھا رکھتا ہوں جسے نمبر ۲ کی صورت میں انشاء اللہ بعد میں کسی 377