کلام محمود مع فرہنگ — Page 358
195 دل دے کے مُشتِ خاک کو دلدار ہو گئے اپنی عطا کے آپ خریدا ر ہو گئے پہلے تو اجروں کے عصا کاز ہو گئے لیکن عصائے موسی سے بے کار ہو گئے اس عشق میں گلاب بھی اب خار ہو گئے دل کے پھپھولے جل اُٹھے انکار ہو گئے تیری عنایتوں نے دکھایا ہے یہ کمال اغراء سخت آج نگوں سار ہو گئے میرے مسیح ! تیرا تقدس کمال ہے بے دین تھے جو آج وہ دیندار ہو گئے کیوں کا پتا ہے دشمن جاں تیرے پیار سے جو دوست تھے وہ طالب آزاد ہو گئے اُن کو سزا بھی دی تو بڑائی ہے اس میں کیا جو خود ہی اپنے نفس سے بیزار ہو گئے اللہ کے فرشتوں کی طاقت تو دیکھ تو جو ہم کو مارتے تھے گرفت رہو گئے م چھوٹوں کو حق نے کر کے دکھایا ہے سر کینہ جو تھے ذلیل قوم کے سردار ہو گئے کر کے دکھایا ہے بھائی ! زمانہ کا یہ تعینہ تو دیکھنا جو صاحب بلال تھے بے کار ہو گئے مولا کی مہربانی تو دیکھو کہ کس طرح جو تابع فرنگ تھے سرکا ر ہو گئے ستی نے خون قوم کا چوسا ہے اس طرح جو سربراہ کار تھے بے کار ہو گئے عشق خُدا نے خول چڑھایا تھا اس کے گرد انگار بھی خلیل یہ گلزار ہو گئے اخبار الفضل جلد 24 - 26 دسمبر 1970ء 354