کلام محمود مع فرہنگ — Page 357
194 قدموں میں اپنے آپ کو مولا کے ڈال تو خوف و ہراس غیر کا دل سے نکال تو تعل و گہر کے عشق میں دُنیا ہے پیس رہی تو اس سے آنکھ موڑ ہے مولا کا لال تُو سایہ ہے تیرے سر پہ خدائے جلیل کا دشمن کے بور وسلم سے ہے کیوں نڈھال تُو اے میرے مہربان خُدا ! اک نگاه مهر کانٹا جو میرے دل میں پیچھا ہے نکال تو اس لالہ رخ کے عشق میں یکی مست حال ہوں آنکھیں دکھا رہا ہے مجھے لال لال تو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے گند ہر ہر قدم پہ ہوش سے دامن سنبھال تو تیرا جہان وہم ہے میرا جہاں عمل اخبار الفضل 31 دسمبر 1988ء میں مست حال ہوں تو ہے منت خیال تو 353