کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 14

6 وہ قصیدہ میں کروں وصف مسیحا میں رقم فخر سمجھیں جسے لکھنا بھی مرے دست و قلم ئیں وہ کامل ہوں کہ سُن لے مرے اشعار گوگر پھینک دے جام کو اور چومے مرے پاؤں کو حجم میں کسی بحر میں دکھلاؤں جو اپنی تیزی عرفی و ذوق کے بھی دست و زُباں ہو دیں کھولتا ہوں میں زباں وصف میں اُس کے یارو جس کے اوصاف حمیدہ نہیں ہو سکتے رقم جان ہے سارے جہاں کی وہ شہر والا جاہ منبع جود وسخا ہے وہ میرا ابر گرم وہ نصیبا ہے ترا اے میرے پیارے عیسی فخر سمجھیں تری تقلید کو ابنِ مریم فیض پہنچانے کا ہے تُو نے اٹھایا بیڑا لوگ بھولے ہیں ترے وقت میں نام حائم 14