کلام محمود مع فرہنگ — Page 262
127 بٹھانہ مسند پر پاس اپنے نہ دے جگہ اپنی انجمن میں یہ میرا دل تو مرا ہی دل ہے اسے تو رہنے دو میرے تین میں نہ ہوئیٹر جو حریت تو ہے بے دکن آدمی وطن میں قفن تم ہی رہے گا پھر بھی ہزار رکھو اسے چمن میں ہی جو دل سلامت رہے تو عالم کا ذرہ ذرہ ہے مسکراتا ہزار انجم نظر ہیں آتے ہزار پیوند پیر بہن میں جیسے نواز سے خُدا کی رحمت اُسی میں سب خوبیاں ہوں پیدا غزال لاکھوں ہیں اور بھی تو ہے بات کیا ہوئے متن میں ہوا جو مکہ میں نور پیدا اُسی کو مکہ نے دور پھینکا کبھی ملی ہے نبی کو عزت بتا تو اسے معترض وطن میں ہیں رنگ رلیاں منارہے لوگ سلغرکے چھنک رہے ہیں وه لطف اُن کو کہاں میسر میلا جو مجھ کو تیری نگن میں تری جنت ہے میرے دل میں مری محبت ہے تیرے دل میں زبان میری تسے تصرف میں بات تیری میرے ذہن میں 260