کلام محمود مع فرہنگ — Page 260
126 ! تو اگر میرا دلربا نہ بنا شاری طوبی پر آشیانہ بنا تا ابد جو رہے فسانہ بنا عرش بھی جس سے مرتعیش ہو جائے سوزشِ دل سے وہ ترانہ بنا فلسفی زندگی سے کیا پایا؟ حیف ہے گر ترا خُدا نہ بنا لذت وضل ہی میں سب کچھ ہے اس سے ملنے کا کچھ بہانہ بنا چھوڑنا ہے ہونقش عالم پر کس کر عزم مقبلانہ بنا وہ تو بے پردہ ہو گئے تھے مگر حیف یہ دل ہی آئینہ نہ بنا دل کو لے کر میں کیا کروں پیارے تو اگر خاک کر دے ملا دے مٹی میں پر میرے دل کو بے وفا نہ بنا گر کے قدموں پر ہو گیا ئیں ڈھیر وقت پہ خوب ہی بہانہ بنا چال معشاق کی چلوں میں بھی تو بھی انداز دلبرانہ بنا نعمت کوضل بے سوال ہی دے اپنے عاشق کو بے حیا نہ بنا جو بھی دیتا ہے آپ ہی دے دے مجھ کو اغیار کا گدا نہ بنا تجھ سے مل کر نہ غیر کو دیکھوں غیر کا مُجھ کو مُبتلا نہ بنا جس کے نیچے ہوں سب جمع معشاق اپنی رحمت کا شامیانہ بنا 258