کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 245

114 وہ یاد کیا جو یار کو دل سے اُتار دے وہ دل ہی کیا جو خوف سے میدان ہار دے اک پاک صاف دل مجھے پروردگار ہے اور اس میں عکس حُسنِ ازل کا اُتار دے دل دے وہ پیم تن جو خواب میں ہی مجھ کو پیارے دل کیا ہے بندہ جان کی بازی بھی ہار دے افزدگی سے دل میرا مرجھا رہا ہے آج اسے چشمہ فیوض نئی راک بہار دے دنیا کا غم ادھر ہے اُدھر آخرت کا خوف یہ بوجھ میرے دل سے الہی اُتار دے مستند کی آرزو نہیں بس جوتیوں کے پاس درگہ میں اپنی مجھ کو بھی اک بار بار دے گزری ہے ساری عمر گناہوں میں اے خُدا کی پیشکش حضور میں یہ شرمسار دے ہے ساری وخشت سے پھٹ رہا ہے مرا سر میرے خُدا اس بے قرار دل کو ذرا تو قرار دے تو بار گا چین ہے میں ہوں گدائے حُسن مانگوں گا بار بار ہیں ، تو بار بار دے دن بھی اسی کے راتیں بھی اس کی جو خوش نصیب آقا کے در پہ عمر کو اپنی گزار دے دل چاہتا ہے جان ہو اس کام پر نثار توفیق اس کی اسے میرے پروردگار دے میرے دل و دماغ پر چھا جا او خوبرو اور ماسوا کا خیال بھی دل سے اُتار دے ممکن نہیں کہ چین ملے وصل کے سوا فُرقت میں کوئی دل کو تسلی ہزار دے کیسے اُٹھے وہ بوجھ جو لاکھوں پر بار ہو جب غم دیا ہے ساتھ کوئی غم گسار دے 243